Sunday, January 17, 2010

Black Water in Iraq (Part-2)


میں زی یا بلیک واٹر نے سترہ عراقی شہریوں کو بلا کسی طیش کے قتل کر دیا جس پر امریکہ میں ان پر مقدمہ درج ہوا جس سے بعد میں انہیں مستثنیٰ قرار دیا گیا مگر پانچ پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔  د سمبر 2009ء میں امریکی عدالت نے ان کے خلاف مقدمہ کو خارج کر دیا. ورجینیا کی عدالت میں دو سابقہ بلیک واٹر کے ملازمین نے بیان دیا ہے کہ وہ جب عراق میں تعینات تھے تو ان کے سربراہ اور بلیک واٹر کے مالک ایرک پرنس خود کو ایک ایسا صلیبی کہتا تھا جس کا کام دنیا سے مسلمانوں کے وجود کو پاک کرنا اور اسلام کو ختم کرنا ہے اور وہ عراق میں عوام کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے ہی کچھ ملازمین کا قتل کروایا جن سے یہ خطرہ تھا کہ وہ امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں کوئی بیان دے دیں گے. واضح رہے کہ یہ بیانات عدالت میں دیے گئے ہیں جن کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔




No comments:

Post a Comment